حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، کسی بھی معاشرے میں حقیقی اور پائیدار تبدیلی محض وقتی نعروں، وسیع عمارتوں، محدود فکر و نظر یا انفرادی نوعیت کی سرگرمیوں سے نہیں آتی بلکہ اس کے لیے بلند اہداف، جامع منصوبہ بندی، وسیع النظر فکر، اجتماعی جدوجہد اور مؤثر ٹیم ورک ضروری ہوتا ہے۔
اسی وژن کے تحت 2008ء میں کواردو، بلتستان میں نئی نسل کی جدید خطوط پر تعلیم و تربیت، دینی و عصری علوم کے حسین امتزاج اور اجتماعی فکر و عمل کے فروغ کے مقصد سے جامعہ طوسی کا قیام عمل میں لایا گیا۔
اگرچہ جامعہ طوسی کواردو کے حوالے سے میڈیا اور احباب کے ذریعے عمومی تعارف اور اجمالی معلومات حاصل ہوتی رہی ہیں، تاہم حالیہ دورے کے دوران ادارے کا قریب سے مشاہدہ، اس کے وسیع و عریض رقبے کا جائزہ اور ذمہ داران، اساتذہ اور طلبہ سے ملاقات و گفتگو کا موقع ملا۔
اس موقع پر جامعہ طوسی کے مسئول جناب رسول میر سے مختلف علمی، تعلیمی اور انتظامی امور پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ انہوں نے جامعہ کے قیام اور ارتقائی سفر کے حوالے سے بتایا کہ ادارے کا آغاز 2008ء میں محدود وسائل، لیکن مضبوط، مخلص اور درد مند ٹیم کے ساتھ ہوا اور گزشتہ اٹھارہ برسوں کے دوران جامعہ نے مختلف شعبوں میں قابلِ ذکر نتائج حاصل کیے ہیں۔

جامعہ طوسی کے تعلیمی شعبے
جامعہ طوسی کے مسئول نے اپنی گفتگو کے دوران جامعہ کے تعلیمی شعبہ جات کے بارے میں بتایا کہ برادران کے لیے یہاں دو بنیادی شعبے قائم ہیں؛ ایک شعبہ عصری اسکولی تعلیم اور دوسرا حوزوی تعلیم کے لیے مدرسے کی صورت میں کام کر رہا ہے۔
اسکول میں طلبہ کے لیے سائنس اور آرٹس دونوں شعبوں میں میٹرک تک تعلیم کی سہولت موجود ہے، جہاں بلتستان کے مختلف علاقوں سے آنے والے طلبہ زیرِ تعلیم ہیں۔
اسی طرح کواردو کی طالبات کے لیے پہلی جماعت سے میٹرک تک آرٹس اور سائنس جبکہ انٹرمیڈیٹ میں آرٹس کی تعلیم کا انتظام موجود ہے۔
عصری تعلیم کے ساتھ معارفِ اسلامی کا باقاعدہ کورس بھی نصاب میں شامل ہے، جس میں عقائد، اخلاق اور قرآن کریم جیسے بنیادی موضوعات پڑھائے جاتے ہیں۔ اس طرح جامعہ طوسی میں اسکول اور مدرسے کا خوب صورت امتزاج نظر آتا ہے، جہاں تعلیم کے ساتھ تربیت، کردار سازی اور دینی شعور کی نشوونما پر بھی خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔
جامعہ میں طلبہ کے لیے اوقاتِ نماز میں باجماعت نماز کا اہتمام کیا جاتا ہے جبکہ طالبات کے لیے نمازِ ظہرین باجماعت ادا کی جاتی ہے۔

اساتذہ اور تربیتی نظام
اساتذہ کے حوالے سے جناب رسول میر نے بتایا کہ جامعہ طوسی میں پنجاب، گلگت بلتستان اور بلتستان کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے اساتذہ تدریس، تربیت اور طلبہ کی علمی و اخلاقی رہنمائی میں مصروف ہیں۔ اس وقت تقریباً 42 اساتذہ جامعہ کی تعلیمی و تربیتی سرگرمیوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔
فارغ التحصیل طلبہ کی علمی و سماجی خدمات
جامعہ سے فارغ ہونے والے طلبہ کی ایک بڑی تعداد اس وقت قم، مشہد اور نجف اشرف میں علومِ آلِ محمد علیہم السلام کے حصول میں مصروف ہے جبکہ سیکڑوں طلبہ ملک بھر کی مختلف جامعات میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔
اس کے علاوہ جامعہ کے بعض فارغ التحصیل افراد بلتستان میں دینی، مذہبی، سماجی اور سیاسی میدانوں میں بھی اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
اس موقع پر رسول میر کے علاوہ حجۃ الاسلام شیخ اکبر مخلصی، شیخ جعفر علی، شیخ محمد عابدین اور مولانا فدا علی سے بھی مختلف علمی و فکری موضوعات پر گفتگو اور تبادلۂ خیال کا موقع ملا۔

جامعہ طوسی کی کامیابی کا راز؛ عزم، ہدف اور ٹیم ورک
جامعہ طوسی کے مختصر دورے کے دوران جس پہلو نے سب سے زیادہ متاثر کیا، وہ ادارے کے ذمہ داران اور اساتذہ کا بلند عزم و حوصلہ، واضح اہداف، مشکلات کو مواقع میں تبدیل کرنے کا جذبہ اور باہمی مشاورت کے ساتھ اجتماعی طور پر کام کرنے کی صلاحیت ہے۔
درحقیقت یہی وہ بنیادی عناصر ہیں جو کسی بھی علمی، تعلیمی یا سماجی منصوبے کی کامیابی کی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ محدود وسائل کے باوجود اگر مقصد بلند، منصوبہ واضح، ٹیم مخلص اور عزم مضبوط ہو تو بڑے سے بڑا ہدف بھی حاصل کیا جا سکتا ہے۔
جامعہ طوسی کا سفر اس حقیقت کی ایک خوب صورت مثال ہے کہ ادارے صرف عمارتوں سے نہیں بنتے بلکہ واضح وژن، مخلص افراد، مضبوط ٹیم، مسلسل محنت اور بلند اہداف سے تشکیل پاتے ہیں۔

جامعہ طوسی کی یہ علمی و تربیتی کاوشیں اس امر کی بھی عکاسی کرتی ہیں کہ اگر نئی نسل کی تعلیم و تربیت کو اجتماعی وژن، دینی شعور اور عصری تقاضوں کے ساتھ مربوط کیا جائے تو محدود وسائل میں بھی مؤثر اور دور رس نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ جامعہ طوسی کو مزید ترقی و استحکام عطا فرمائے، اس کے ذمہ داران، اساتذہ اور تمام خدمت گزار افراد کی کاوشوں کو شرفِ قبولیت بخشے اور انہیں اپنے بلند دینی، تعلیمی اور تربیتی مقاصد کے حصول میں کامیاب فرمائے۔ الہی آمین









آپ کا تبصرہ